شہید سبط جعفر زیدی علم، ادب کی درخشاں مثال
تحریر : خانم ام فروہ
صراط ٹائمز : پاکستان کی سرزمین نے بے شمار ایسے گوہر نایاب پیدا کیے جنہوں نے اپنے علم، فن اور کردار سے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں۔ انہی درخشاں شخصیات میں ایک نمایاں نام سبط جعفر زیدی شہید کا ہے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر تعلیم، شاعر، اور مرثیہ گو تھے بلکہ ایک نڈر اور بااصول شخصیت کے حامل انسان بھی تھے۔ ان کی زندگی، خدمات، اور شہادت کا تذکرہ ہر اس شخص کے لیے ایک مثال ہے جو علم و ادب اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر
سبط جعفر زیدی نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور بعد میں جامعہ کراچی سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا۔ وہ ایک غیر معمولی ذہین استاد تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تدریس میں گزارا۔ ان کا اندازِ تدریس انتہائی منفرد اور دلنشین تھا، جس کی بدولت وہ نہ صرف طلبہ میں بے حد مقبول تھے بلکہ ان کے شاگرد انہیں ایک مثالی استاد اور رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
ادبی خدمات اور شاعری
سبط جعفر زیدی شہید کو اردو اور فارسی شاعری سے گہری وابستگی تھی۔ وہ بالخصوص مرثیہ گوئی میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کے لکھے گئے مرثیے اور سلام آج بھی اہلِ بیتؑ سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری صرف مرثیے تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے سماجی مسائل اور ظلم و ناانصافی کے خلاف بھی قلم اٹھایا۔
بحیثیت معلم
وہ کراچی کے مختلف تعلیمی اداروں میں اردو ادب کے استاد رہے، اور طلبہ کی فکری و علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی درسگاہ صرف ایک کلاس روم نہیں تھی بلکہ وہ ہر جگہ جہاں موقع ملتا، علم بانٹنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ وہ ایک سچے معلم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے رہے، اور یہی وجہ تھی کہ طلبہ میں ان کی بے پناہ عزت و محبت تھی۔
شہادت
سبط جعفر زیدی کو 18 مارچ 2013 کو کراچی میں دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت ایک ایسا سانحہ تھا جس نے علم و ادب سے محبت کرنے والوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ وہ ایک ایسے معلم اور شاعر تھے جنہوں نے ہمیشہ حق و سچ کی راہ اپنائی اور اپنے قلم و تدریس کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔
شہید سبط جعفر کی میراث
ان کی شہادت کے باوجود، ان کی تعلیمات اور شاعری آج بھی زندہ ہے۔ ان کے مرثیے، ان کا علمی سرمایہ اور ان کے شاگرد ان کی عظمت اور جدوجہد کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسی شمع تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی عطا کرتی رہی، اور یہی وہ چراغ ہے جو ہمیشہ جلتا رہے گا۔
شہید سبط جعفر زیدی کی زندگی ہم سب کے لیے ایک مثال ہے کہ علم اور سچائی کی راہ میں مشکلات آ سکتی ہیں، مگر حق کی شمع جلانے والے کبھی ماند نہیں پڑتے۔ ان کی خدمات، شاعری، اور تدریسی کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے
الہٰی آمین
