صراط ٹائمز / امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام شب ضربت ارشاد فرماتے ہیں۔
مَلَكَتْنِیْ عَیْنِیْ وَ اَنَا جَالِسٌ، فَسَنَحَ لِیْ رَسُوْلُ اللهِ ص: فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ! مَاذَا لَقِیْتُ مِنْ اُمَّتِكَ مِنَ الْاَوَدِ وَ اللَّدَدِ؟ فَقَالَ: «ادْعُ عَلَیْهِمْ»، فَقُلْتُ: اَبْدَلَنِی اللهُ بِهِمْ خَیْرًا مِّنْهُمْ، وَ اَبْدَلَهُمْ بِیْ شَرًّا لَّهُمْ مِنِّیْ.
ترجمہ:۔
میں بیٹھا ہوا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں رسول اللہ ص میرے سامنے جلوہ فرما ہوئے۔
میں نے کہا: یا رسول اللہؐ! مجھے آپؐ کی اُمت کے ہاتھوں کیسی کیسی کجرویوں اور دشمنیوں سے دو چار ہونا پڑا ہے۔
تو رسول اللہ ص نے فرمایا : «تم ان کیلئے بد دُعا کرو»
تو میں نے (صرف اتنا) کہا : اللہ مجھے ان کے بدلے میں ان سے اچھے لوگ عطا کرے اور ان کو میرے بدلے میں کوئی بُرا (امیر) دے۔
نہج البلاغہ ، خطبہ 70۔
