صراط ٹائمز / یہ حدیث کتاب المستدرک علی الصحیحین ج 3 ص 141 میں نقل ہوئی ہے جس کا متن کچھ اس طرح ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:۔
“یا علی! اَشْقَی النَّاسِ مَنْ یَضْرِبُکَ عَلَی هَذِهِ (وَأَشَارَ إِلَیْهِ بِیَدِهِ إِلَیْ جَبْهَتِهِ)، فَیُبَلِّغُ بِذَلِکَ الدَّمَ مِنْکَ هَذِهِ”
ترجمہ:۔
“اے علی! سب سے بدبخت ترین شخص وہ ہوگا جو تمہاری پیشانی پر (ضربت) لگائے گا اور تمہارے خون کو تمہاری داڑھی تک پہنچا دے گا۔”
وضاحت:۔
یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی واضح پیشگوئی ہے۔ اس میں بیان کیا گیا کہ سب سے بدبخت شخص وہ ہوگا جو حضرت علیؑ کو ایسی ضرب لگائے گا کہ ان کا خون ان کی داڑھی تک بہہ جائے گا۔
یہ پیشگوئی اس وقت پوری ہوئی جب ابن ملجم مرادی نے 19 رمضان 40 ہجری کو کوفہ کی مسجد میں فجر کی نماز کے دوران حضرت علی علیہ السلام کے سر پر زہر آلود تلوار سے وار کیا، جس سے آپؑ کا خون بہہ کر داڑھی مبارک تک آ گیا۔
نتیجہ:۔
یہ حدیث حضرت علیؑ کی مظلومانہ شہادت پر روشنی ڈالتی ہے اور یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلے سے معلوم تھا کہ ان کے وصی اور جانشین کو ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی، اس حدیث میں قاتل کے بدبخت ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایک تاریخی حقیقت کے طور پر پوری ہوئی۔
