آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی سیستانی نے عراق کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا : عراق اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ عوام شدید معاشی دباؤ، بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور انصاف کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال مزید کسی غفلت یا ذاتی مفادات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا:
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے، عوامی وسائل کو لوٹ مار سے محفوظ رکھے اور ہر اس عمل کو روکے جو قومی وحدت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عراق کا مستقبل شفاف حکمرانی، دیانت دار قیادت اور حقیقی اصلاحات سے وابستہ ہے، نہ کہ وقتی سیاسی سودوں سے۔
آیت اللہ سیستانی نے واضح کیا:
عراق کی خودمختاری ایک مقدس امانت ہے۔ کسی بھی بیرونی طاقت یا غیر ریاستی عنصر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملکی فیصلوں پر اثرانداز ہو یا اس کی سلامتی کو یرغمال بنائے۔ ہتھیار صرف ریاست کے اختیار میں ہونے چاہئیں، کیونکہ طاقت کا بکھراؤ ملک کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا:
سیاسی اختلافات کا حل تشدد نہیں بلکہ آئینی اور قانونی راستہ ہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب انصاف سب کے لیے یکساں ہوگا اور قانون کسی دباؤ کے بغیر نافذ کیا جائے گا۔
علاقائی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی اقدامات کا براہِ راست نقصان عام انسانوں کو ہوتا ہے۔ عقل و حکمت کا تقاضا ہے کہ مسائل کو مکالمے، تحمل اور سیاسی تدبر سے حل کیا جائے، نہ کہ ایسے اقدامات سے جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیں۔
آخر میں انہوں نے کہا:
عراقی عوام صبر، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ اصلاحات کا مطالبہ جاری رکھیں، اور تمام ذمہ دارانِ امور خدا اور تاریخ کے سامنے اپنے فرائض کو یاد رکھیں۔ عراق کی نجات سچائی، عدل اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے میں ہے۔
