1

جس کی لاٹھی اس کی بھینس، تاریخ قدیم و جدید

  • نیوز کوڈ : 2489
  • 07 January 2026 - 0:48
جس کی لاٹھی اس کی بھینس، تاریخ قدیم و جدید

جس کی لاٹھی اس کی بھینس، تاریخ قدیم و جدید

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

اگر قدیم بادشاہی تاریخ اور جدید استعماری تاریخ کو ایک ہی تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے تو روس کا یوکرین پر حملہ، چین کا تائیوان پر دعویٰ اور ممکنہ قبضے کی حکمتِ عملی، اور امریکہ کا وینیزویلا یا پورے لاطینی امریکہ پر دباؤ اور بالواسطہ قبضہ—یہ سب کسی نئی دنیا کے مظاہر نہیں بلکہ پرانی دنیا کی نئی زبانیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قدیم زمانے میں تلوار، گھوڑا اور جھنڈا تھا، اور آج میزائل، میڈیا، معیشت اور “قانونی بیانیہ” ہے۔

قدیم بادشاہی تاریخ میں طاقت کا تصور بالکل عریاں تھا۔ سلطنتیں زمین، وسائل، انسانی قوت اور جغرافیائی برتری کے لیے پھیلتی تھیں۔ آشوری، رومی، فارسی یا منگول سلطنتیں کسی اخلاقی جواز کی محتاج نہیں تھیں۔ فاتح ہونا ہی حق کی دلیل سمجھا جاتا تھا۔ کمزور کا وجود طاقتور کے پھیلاؤ میں رکاوٹ تھا، اور اس رکاوٹ کو ہٹانا قدرتی حق مانا جاتا تھا۔ اس زمانے میں قبضہ ظلم بھی تھا اور معمول بھی، اور تاریخ اسے فاتح کے نام سے یاد رکھتی تھی، مظلوم کے نوحے سے نہیں۔

استعماری دور نے اسی منطق کو ذرا مہذب لباس پہنایا۔ یورپی طاقتوں نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ پر قبضہ کرتے ہوئے تلوار کے ساتھ “تہذیب”، “ترقی”، “عیسائیت” اور “قانون” کے نعرے لگائے۔ قبضہ اب بھی تھا، مگر اسے اخلاقی مشن بنا کر پیش کیا گیا۔ وسائل کی لوٹ، ثقافتوں کی تباہی اور ریاستوں کی مسخ شدہ سرحدیں اسی دور کی دین ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ بادشاہوں کی جگہ کمپنیاں، سلطنتوں کی جگہ ایمپائر، اور لشکروں کی جگہ بحری بیڑے اور چارٹرڈ ادارے آگئے تھے۔

آج کی جدید دنیا خود کو “بین الاقوامی قانون”، “اقوام متحدہ”، “خودمختاری” اور “انسانی حقوق” کے نعروں سے پہچانتی ہے، مگر طاقت کی روح وہی ہے۔ روس یوکرین کے معاملے میں تاریخی سرحدوں، نیٹو کے خطرے اور سیکیورٹی کے بیانیے کے ذریعے وہی کام کر رہا ہے جو ماضی میں سلطنتیں کرتی تھیں: اپنے اثرِ رسوخ کے دائرے کو محفوظ بنانا۔ یہ عمل قدیم بادشاہی منطق کا جدید اظہار ہے، جہاں طاقتور ہمسائے کی خودمختاری کو مشروط سمجھتا ہے۔

چین کا تائیوان کے بارے میں مؤقف بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے۔ قدیم چین میں “مرکزِ تہذیب” کے گرد دائرہ وار ریاستیں تھیں جنہیں مکمل خودمختار نہیں بلکہ ماتحت یا نیم ماتحت سمجھا جاتا تھا۔ آج “ون چائنا پالیسی” اسی ذہنیت کی جدید شکل ہے، فرق یہ ہے کہ اب اسے تاریخی حق، قومی وحدت اور عالمی سیاست کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ اگر قبضہ ہوا تو وہ کسی قدیم شہنشاہ کے حکم سے نہیں بلکہ جدید ریاستی قوم پرستی اور طاقت کے توازن کے نام پر ہوگا۔

امریکہ کا معاملہ بظاہر مختلف مگر باطن میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وہ براہِ راست قبضے سے زیادہ بالواسطہ تسلط کا ماہر ہے۔ وینیزویلا پر دباؤ، معاشی پابندیاں، حکومت کی تبدیلی کے اشارے، اور لاطینی امریکہ کو دھمکیاں—یہ سب استعماری تاریخ کے جدید ترین اوزار ہیں۔ قدیم بادشاہی دور میں لشکر داخل ہوتے تھے، استعماری دور میں وائسرائے آتے تھے، اور آج قرض، پابندیاں، میڈیا بیانیہ اور مقامی ایلیٹس کے ذریعے ریاستوں کو تابع بنایا جاتا ہے۔ یہ قبضہ نظر نہیں آتا مگر اثر میں کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

ان تینوں مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے: طاقت اپنے لیے اخلاق پیدا کرتی ہے، نہ کہ اخلاق طاقت کو روکتا ہے۔ جدید دنیا کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ وہ خود کو قدیم اور استعماری تاریخ سے مختلف ثابت کرنا چاہتی ہے، مگر عملی طور پر انہی اصولوں پر چل رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ظلم کو “قانونی فریم ورک”، “سیکیورٹی خدشات” اور “عالمی استحکام” کے الفاظ میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج کا قبضہ نہ قدیم بادشاہی سادگی رکھتا ہے اور نہ کلاسیکی استعمار کی عریانی، بلکہ یہ ایک ہائبرڈ شکل ہے جس میں تلوار بھی ہے، دلیل بھی، اور اخلاقی بیانیہ بھی۔ مظلوم ریاستیں اب بھی وہی ہیں، بس ان کے نوحے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں اور فیصلے بند کمروں میں۔ تاریخ بدلتی نہیں، صرف اپنے چہرے بدل لیتی ہے، اور جدید دنیا اسی قدیم تاریخ کا سب سے مہذب مگر شاید سب سے خطرناک ایڈیشن ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2489

ٹیگز

تبصرے