2

انسانیت، مزاحمت اور حق کی قیادت

  • نیوز کوڈ : 2504
  • 07 January 2026 - 18:46
انسانیت، مزاحمت اور حق کی قیادت

انسانیت، مزاحمت اور حق کی قیادت

تحریر : سید عمار حیدر زیدی

/ آج کی دنیا میں جب طاقت کو حق کا معیار بنا دیا گیا ہے، اور مظلوم کی آواز کو دبانے کے لیے میڈیا، سیاست اور سرمایہ ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، ایسے ماحول میں رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کی قیادت ایک واضح، توانا اور بامعنی صدائے حق بن کر ابھرتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ‌ای کا راستہ کسی ایک قوم، جغرافیے یا مسلک تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر انسانی اور اسلامی فکر ہے، جو ظلم کے مقابل قیام، عدل کے قیام اور مظلوم انسان کے دفاع پر استوار ہے۔ ان کی قیادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل طاقت ہتھیاروں یا دولت میں نہیں، بلکہ فکری استقلال، اخلاقی استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے میں ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنی فکر اور کردار سے یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقی قائد وہی ہوتا ہے جو طاقت کے مراکز کے سامنے جھکنے کے بجائے، حق کا علم بلند رکھے۔ ان کا پیغام خودداری، آزادی اور مزاحمت کا پیغام ہے—ایسا پیغام جو انسان کو خوف سے نکال کر شعور، بیداری اور ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مظلوم—چاہے وہ فلسطین کے ہوں، یمن کے ہوں، لبنان کے ہوں یا کسی اور خطے کے—آیت اللہ خامنہ‌ای کی آواز میں اپنی ہی آواز کی بازگشت سنتے ہیں۔ ان کے لیے یہ قیادت محض سیاسی نہیں بلکہ حوصلہ، امید اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔

آیت اللہ خامنہ‌ای کے خلاف کیا جانے والا منفی اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ درحقیقت کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہے۔ یہ اس فکر کو دبانے کی کوشش ہے جو مظلوموں کو جرات دیتی ہے، استکباری نظام کو چیلنج کرتی ہے، اور انسان کو اس کی اصل پہچان—یعنی حق و باطل کے درمیان فرق—سے جوڑتی ہے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ آج کے دور میں میڈیا اور عالمی ادارے اکثر طاقتوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سچ کو مسخ کرتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ‌ای کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد مزاحمت کے نظریے کو کمزور کرنا اور مظلوم اقوام کو تنہا دکھانا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔

آیت اللہ خامنہ‌ای کی قیادت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ امت کو فرقہ واریت، قوم پرستی اور ذاتی مفادات سے نکال کر مشترکہ اسلامی و انسانی اقدار کی طرف دعوت دیتی ہے۔ وہ اتحاد، بیداری اور فکری خودمختاری پر زور دیتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو سماجی انصاف، سیاسی شعور اور اخلاقی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

آج جب دنیا میں کمزوروں کو کچلا جا رہا ہے، وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے، ایسے میں آیت اللہ خامنہ‌ای کا موقف ایک مضبوط دیوار کی مانند ہے۔ ان کی فکر مظلوموں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ تنہا نہیں، اور یہ کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل انسانیت ہے۔

لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای کا راستہ انسانیت کا راستہ ہے۔ ان کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ حق کے خلاف ایک ناکام سازش ہے، اور مظلوموں کی آواز دبانے کی ایک بے سود کوشش۔ تاریخ ہمیشہ کی طرح فیصلہ کرے گی—اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہوگا کہ حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2504

ٹیگز

تبصرے