12

امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام

  • نیوز کوڈ : 1678
  • 11 May 2025 - 1:48
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام

امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام

:امام علی علیہ السلام کا یہ فرمان نھج البلاغہ حکمت 299 سے نقل کیا گیا ہے جس کا متن اور تشریع ذیل میں درج ہے

“مَاۤ اَهَمَّنِیْ ذَنْۢبٌ اُمْهِلْتُ بَعْدَهٗ حَتّٰۤى اُصَلِّیَ رَكْعَتَیْنِ وَ اَسْئَلَ اللهَ الْعَافِیَةَ.”

:ترجمہ
وہ گناہ مجھے اندوہناک نہیں کرتا جس کے بعد مجھے اتنی مہلت مل جائے کہ میں دو رکعت نماز پڑھوں اور اللہ سے امن و عافیت کا سوال کروں۔

:تشریح
“ما اھمنی ذنب” (مجھے کوئی ایسا گناہ غمگین نہیں کرتا) کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کو کم اہمیت دی جا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ گناہ مجھے پریشان نہیں کرتا جس کے بعد مجھے اتنی مہلت مل جائے کہ دو رکعت نماز پڑھ سکوں اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کر سکوں۔ کیونکہ انسان نماز کے ذریعے توبہ کا دروازہ کھولتا ہے۔

بہر حال، یہ نورانی کلام گناہ کی طرف ترغیب نہیں دے رہا، بلکہ توبہ کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ انسان کو ہر لمحہ موت کا سامنا ہو سکتا ہے؛ چاہے وہ اندرونی عوامل جیسے اچانک بیماری یا فالج کے ذریعے ہو یا بیرونی حوادث کے نتیجے میں، جو پلک جھپکتے میں زندگی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
لہٰذا، انسان کو وہ مختصر مہلت جو اسے دو رکعت نماز پڑھنے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے لیے ملتی ہے، ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اسے چاہیے کہ فوراً شیطان کو خود سے دور کرے، خدا کی طرف رجوع کرے، عاجزی و انکساری سے، اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے، ندامت ظاہر کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کی دعا مانگے۔

نہج البلاغہ ، حکمت 299۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1678

ٹیگز

تبصرے